مصباح الحق میں ہیڈکوچ اور چیف سلیکٹر بننے کی کوئی خوبی نہیں:محمد یوسف

وقاریونس ہیڈکوچ اور چیف سلیکٹر ہوتے تویقین آتا کہ میرٹ پر فیصلہ ہوا:سابق کپتان

لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔26ستمبر 2019ء) سابق کپتان محمد یوسف کا کہنا ہے کہ مصباح الحق کی بجائے وقاریونس کو ہیڈکوچ اور چیف سلیکٹر کے اختیارات دیئے جاتے تویقین آتا کہ میرٹ پر فیصلہ ہوا ہے۔لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے قومی ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے سری لنکن ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے برے حالات میں پاکستان نے بھی انکا بھرپور ساتھ دیا تھا، پاکستان سری لنکا کےخلاف آسانی سے سیریز جیتے گا اور اگر سری لنکن تمام کھلاڑی بھی آ جاتے تب بھی میزبان ٹیم مضبوط ہے۔سابق کپتان نے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کی اہلیت اور تقرری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مصباح الحق کے بجائے وقاریونس کو ہیڈکوچ اور چیف سلیکٹر کے اختیارات دیئے جاتے تویقین آتا کہ میرٹ پر فیصلہ ہوا ہے، مصباح الحق میں ایسی کوئی خوبی نہیں، جس کوسامنے رکھتے ہوئے انہیں تمام اختیارات سونپ دیئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیم کے ہیڈکوچ کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوگا کہ وہ جاکر ڈومیسٹک کے میچز دیکھے، اگر ٹیموں کے کوچز کی رائے پر ہی ٹیم بنانی ہے تو پھر چیف سلیکٹر کی کیا ضرورت ہے۔

محمد یوسف نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں ہر سال ہی تبدیلی آتی ہے، اس بار کچھ زیادہ ہی اسکو بدل دیا گیا ہے، میری نظر میں اگر 8 ٹیمیں اوپر رکھ کر اتنی ہی ٹیمیں نیچے کرکے ان کو بھی فرسٹ کلاس کرکٹ کا درجہ دیے دیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا، پاکستان میں کرکٹ کھیلنے والے زیادہ لڑکے غریب گھرانوں سے آتے ہیں، پہلے 5 میچ کھیل کر لڑکے انگلینڈ جاکر پیسے کمالیتے تھے، اب ان کےلئے ایسا کرنا مشکل ہوجائےگا،اس نظام میں زیادہ تر کرکٹرز کرکٹ کھیلنے سے محروم ہوگئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں