مریم نواز کو پارٹی کی نائب صدارت سے ہٹائے جانے سے متعلق کیس کا فیصلہ مؤخر

مریم نواز کو پارٹی کی نائب صدارت سے ہٹائے جانے سے متعلق کیس کا فیصلہ مؤخر

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کیس کا فیصلہ 3 ستمبر تک مؤخر کر دیا

Police officers escort Maryam Nawaz, daughter of arrested former Prime Minister Nawaz Sharif, as she appears in an accountability court in Lahore, Pakistan, Friday, Aug. 9, 2019. Court summoned her for using a bogus trust deed in the Avenfield properties case. (AP Photo/K.M. Chaudhry)

 مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کو پارٹی صدارت کے عہدے سے ہٹائے جانے سے متعلق کیس کا فیصلہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا خان نے ریمارکس دیئے کہ اس کیس سے متعلق مزید تفصیلات درکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ دیکھنا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے اور آرٹیکل 62، 63 کے اطلاق پر مزید معاونت درکار ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وکلاء کو مزید معاونت فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔ جس کے بعد مریم نواز کو پارٹی کی نائب صدارت کے عہدے سے ہٹائے جانے سے متعلق کیس کا فیصلہ 3 ستمبر تک مؤخر کر دیا۔

واضح رہے الیکشن کمیشن نے گذشتہ سماعت پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

دوران سماعت مسلم لیگ ن کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ جیل میں موجود شخص بھی پارٹی عہدہ رکھ سکتا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے مریم نواز کی مسلم لیگ ن کی نائب صدر کی حیثیت سے تقرری سے متعلق کیس کا فیصلہ آج سنانا تھا۔ یاد رہے کہ مریم نواز کے پارٹی عہدہ کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے درخواست دائر کر رکھی ہے۔یہ پٹیشن گذشتہ برس مئی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قانون ساز فرخ حبیب، ملیکا بخاری، کنول شوزاب اور جویرہ سمیت دیگر کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ مریم نواز کو عدالت نے 6 جولائی 2018ء کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر کیے گئے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سنائی تھی جس کی وجہ سے وہ پارٹی میں کوئی عہدہ نہیں رکھ سکتیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں