سیاست میں آنا میری مجبوری نہیں ہے

میں بلاول کے ساتھ عوام کی آواز بنتی رہوں گی ۔ سابق صدر آصف زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو

سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو نے کہا کہ سیاست میں آنا میری مجبوری نہیں ہے۔ سیاست کے ذریعے عوام کے حقوق کے لیے آواز اُٹھائی جا سکتی ہے اور اسی لیے میں بلاول کے ساتھ مل کر عام عوام کی آواز بنتی رہوں گی۔ آصفہ بھٹوزرداری نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ دیکھنے کے لیے آپ کو صرف گڑھی خدا بخش جانے کے ضرورت ہے کہ میرے گھر کے کتنے افراد نے اس ملک کے لیے اپنی جانیں دیں۔ہمارے پاس صرف یہی راستہ تھا کہ یا تو ہم خاموش رہیں یا آگے بڑھ کر حق کے لیے آواز اُٹھائیں۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ عمران خان کے حکومت اور سابق آمر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں بہت سے مماثلتیں ہیں، جیسے ان کی وہی کابینہ ہے جو جنرل مشرف کی تھی۔

عمران خان کی ناکامیوں کی فہرست ان کی کامیابیوں سے کہیں لمبی ہے۔ آزادی اظہار رائے پر قدغنیں ہیں، انسانی حقوق کی پامالی، یہ سب کچھ ان کے دور حکومت میں ہو رہا ہے۔

عمران خان نے پاکستانی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک کروڑ نوکریاں دیں گے جبکہ وہ ایک نوکری بھی نہیں دے سکے۔ در حقیقت انہوں نے ملک کو معاشی طور پر غیر مستحکم کیا ہے جو ہزاروں لوگوں کو نوکریوں سے فارغ کرنے کا سبب بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے والد کی صحت اور ان کےعلاج سے مطمئن نہیں ہوں۔ انہیں اسپتال میں ڈاکٹرز کی زیر نگرانی ہونا چاہئیے اور ڈاکٹرز کی تسلی کے بعد ہی انہیں اسپتال سے جیل منتقل کیا جانا چاہئیے۔این آر او کی بڑھتی ہوئی گونج سے متعلق ایک سوال کے جواب میں آصفہ بھٹو نے کہا کہ ہمارا کہنا ہے کہ این آر او مانگ کون رہا ہے؟ میرے والد نے ساڑھے گیارہ سال قید میں گزارے ہیں، اس وقت انہوں نے کسی سے این آر او نہیں مانگا، ان کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہوا پھر بھی انہوں نے کسی سے ڈیل نہیں کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں