میرا وزیراعظم عمران خان سے اب رابطہ کم ہو گیا ہے

میرا وزیراعظم عمران خان سے اب رابطہ کم ہو گیا ہے

میں وزیراعظم سے معیشت پر بات ہی نہیں کرتا ، البتہ پارٹی میں اپنا حصہ ڈالتا رہوں گا۔ اسد عمر

 نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ میری پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کمٹمنٹ اور اُس سے بڑھ کر میری پاکستان کے ساتھ کمٹمنٹ پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ میں ادھر آیا ہوا ہوں تاکہ اپنا حصہ ڈال لوں۔ الیکشن سے پہلے کی اگر بات کی جائے تو اُس وقت عمومی طور پر یہ کہا جاتا تھا، وزیراعظم نے بھی کہیں کہا ہو گا ، لیکن عام طور پر یہی کہا جاتا تھا کہ وزیراعظم ہیں اور اُس کے بعد شاہ محمود قریشی ، جہانگیر ترین اور اسد عمر لیڈرز ہیں۔کوئی بڑا فیصلہ کرنا ہوتا تھا تو وزیراعظم ہمیں بُلا لیتے تھے۔ ایک ہمارا واٹس ایپ گروپ بھی بنا ہوا تھا جس میں جہانگیرترین اور شاہ محمود قریشی تھے۔

جہانگیر ترین پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل تھے ، شاہ محمود قریشی وائس چئیرمین تھے۔ میرے پاس کیا عہدہ تھا ؟ میرے پاس پارٹی کا یونین کونسل کا بھی عہدہ نہیں تھا۔ میں اُس وقت بھی اپنا حصہ ڈالتا تھا اور اب تو میں قائمہ کمیٹی کا چئیرمین ہوں ،ایم این اے ہوں میں اپنی طرف سے کنٹریبیوٹ کرنا جاری رکھوں گا اور میں ایسا کر بھی رہا ہوں اور اس میں میں کافی زیادہ متحرک ہوں ، اس حوالے سے آپ کسی سول سرونٹ سے پوچھ سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میرا وزیراعظم عمران خان سے رابطہ کم ہو گیا ہے ، میں معیشت کی بات ہی نہیں کرتا ۔ میں نے صرف چار ماہ کے اندر دو مرتبہ اُن کو میسج کیا اور معیشت کے حقائق بتائے کیونکہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ اُن کو معلوم ہونا چاہئیے ، اُس کے علاوہ میں بالکل بھی کمنٹ نہیں کرتا۔ نان الیکٹڈ لوگوں کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کو ہائی جیک کرنے کی خبروں پر اسد عمر کا کہنا تھا کہ یہ بالکل تفریق ہے ، الیکٹڈ نان الیکٹڈ کا میرے خیال میں کوئی مسئلہ نہیں ہےالبتہ سننے میں بہت آتا ہے۔ایک عمومی طور پر سیاسی حکومت کو سول سروس یا بیوروکریسی سے جو شکایات ہوتی ہیں تو وہ کوئی بھی حکومت ہو اُس میں الیکٹڈ لوگوں کو یہی لگتا ہے کہ بیوروکریسی بہت طاقتور ہے، یہ بات مجھے بہت سننے کو ملتی ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں