لیڈی کانسٹیبل فائزہ نواز پر تشدد: ’عورت کی جرات کیسے ہوئی مجھے ہتھکڑی لگانے کی‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے فیروزوالا میں ایک لیڈی کانٹسٹیبل پر تشدد کے الزام میں گرفتار وکیل کو ضمانت پر رہا کر دیا ہے تاہم خاتون کا کہنا ہے کہ انھیں اس واقعے کے بعد سے وکلا کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

خیال رہے کہ دو روز قبل لیڈی کانسٹیبل فائزہ نواز کو احمد مختار نامی وکیل نے اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا تھا جب وہ اپنی ڈیوٹی پر مامور تھیں۔

اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس نے ایڈووکیٹ احمد مختار کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ تو درج کر لیا تھا تاہم ملزم نے عدالت سے رجوع کر کے ضمانت پر رہائی حاصل کرلی ہے۔

کانسٹیبل فائزہ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انھیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

کانسٹیبل فائزہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس دن فیروز والا کچہری میں سکیورٹی پر مامور تھیں۔

’احمد مختار اور میرے ساتھی پولیس اہلکار کے درمیان مین گیٹ پر گاڑی کی غلط پارکنگ پر بحث ہوئی۔ میرے ساتھی اہلکار نے احمد مختار سے کہا کہ یہ گاڑی سائڈ پر کر دیں (کیونکہ) یہ سکیورٹی پوائنٹ ہے، ہمیں چیکنگ کرنے میں مسئلہ ہوگا۔‘

اس بات پر فائزہ کے مطابق احمد مختار نے جواب میں کہا ’تمھیں نہیں پتہ کہ میں وکیل ہوں۔‘

لیڈی کانسٹیبل نے بتایا ’چند لمحوں میں ہی ایڈووکیٹ احمد مختار اشتعال میں آگئے اور پولیس اہلکار کے ساتھ تلخ کلامی کی اور اسے دھکے دینا شروع کر دیا جس پر میں نے احمد مختار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پڑھے لکھے ہونے کے باوجود بھی آپ کس طرح بات کر رہے ہیں۔‘

’اس بات پر احمد مختار نے مجھے لاتیں اور تھپڑ مارنا شروع کر دیے۔ وہاں مزید وکلا بھی جمع ہو گئے اور میرے ساتھ اہلکار کے بازو پیچھے پکڑ کر باندھ دیے جس وجہ سے وہ بھی میرے دفاع میں آگے نہیں بڑھ پایا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے دیکھا کہ انھیں بچانے والا کوئی نہیں تو وہ ’اپنی جان بچانے کے لیے تھانے میں ڈی ایس پی صاحب کے پاس پہنچ گئی۔‘

فائزہ نے مزید بتایا کہ ان کی شکایت پر ڈی ایس پی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ایڈووکیت احمد مختار کو گرفتار کر لیا۔

ایف آئی آرتصویر کے کاپی رائٹPUNJAB POLICE

ایف آر میں غلطی

واقعے کے فوری بعد فائزہ نواز کی مدعیت میں پولیس نے ایڈووکیٹ احمد مختار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ اس میں ملزم پر مندرجہ ذیل چار دفعات لگائی گئیں:

  1. 354ت،پ: خاتون کا تقدس پامال کرنا۔
  2. 506ت،پ: سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا۔
  3. 186ت،پ: کسی کے سرکاری فرائض کی ادائگی میں مداخلت کرنا یا اسے روکنا۔
  4. 34ت،پ: اس سیکشن کو پرچے میں اس وقت شامل کیا جاتا ہے جب ایک سے تین تک افراد جرم کا حصہ ہوں۔

تاہم یہ تمام دفعات قابل ضمانت تھیں جس کی وجہ سے ملزم کو رہائی مل گئی جبکہ ایف آئی آر میں ایک غلطی یہ تھی کہ ملزم کا نام احمد مختار کی جگہ ’احمد افتخار‘ لکھا گیا تھا۔

اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فائزہ کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں جانتی کہ وکیل کا نام غلط لکھنا انسانی غلطی ہے یا پھر کچھ اور۔‘

’میری حکام بالا سے یہی اپیل ہے کہ مجھ سے تعاون کر کے مجھے انصاف دیا جائے۔‘

کانسٹیبل فائزہ چاہتی ہیں کہ ان کے مقدمے میں حقوق نسواں کی دفعات بھی شامل کی جائیں جو کہ ناقابل ضمانت ہیں۔

دھمکیاں ملنے کی شکایت

کانسٹیبل فائزہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں وکلا تنظیم کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔

’تاریخ میں پہلے ایسا کھبی نہیں ہوا کہ ایک وکیل کو لیڈی کانسٹیبل نے ہتھکڑی لگائی ہو۔ اس لیے مجھے یقین ہے کہ وہ مجھے نقصان ضرور پہنچائیں گے کیونکہ جھگڑے کے بعد مجھے احمد مختار کے ساتھیوں نے کہا تھا کہ ہم تمھیں مزہ چکھائیں گے۔‘

پولیس کی جانب سے فائزہ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پہلے ہی فیروزوالا سے ٹرانسفر کر دیا گیا ہے۔

احمد مختار کا مؤقف

احمد مختار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پے کہ ان پر غلط الزام لگایا جا رہا ہے۔

’یہ ایک جھوٹی کہانی ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی حقیقت نہیں۔ میں نے فائزہ سے نہیں بلکہ (صرف) مرد پولیس اہلکار سے کہا تھا کہ اپنی ڈیوٹی ٹھیک طرح کرو۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’فائزہ اپنی کرسی پر بیٹھی تھیں۔ ان سے میری کوئی بات نہیں ہوئی۔ پولیس والے اپنی نااہلی چھپانے کے لیے وکیلوں کی تذلیل کر رہے ہیں۔ یہ لوگ لڑکی کو ڈھال بنا کر میری عزت کو اچھال رہے ہیں۔‘

ایڈووکیٹ احمد مختار نے شکایت میں پوچھا ’لیڈی کانسٹیبل کا کیا کام ہے کہ وہ چیک کریں کہ گاڑی اِدھر کھڑی نہ کریں۔ اگر پولیس والوں کے پاس کوئی ویڈیو ہے تو اسے وائرل کر دیں۔‘

ایڈووکیٹ احمد مختار نے کہا ہے کہ ’ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ ملزم کو ہتھکڑی پہنائی گئی ہو اور مدعی اسے کورٹ میں لے کر جائے۔‘

’میرے علاوہ وکلا اور عدالت کی بھی بے عزتی ہوئی ہے۔ ہم اس عزتی کی وجہ سے ہر حد تک جائیں گے۔‘

ایڈوکیٹ احمد مختار اور ان کے ساتھ موجود ساتھیوں نے بی بی سی سے گفتگو میں یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس اہلکار نے جان بوجھ کر خاتون کانسٹیبل کے ہاتھ میں ہتھکڑی دی تاکہ وکلا کو بدنام کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک عورت اتنی جرات کیسے کر سکتی ہے کہ وہ کسی وکیل کو ہتھکڑی لگائے۔

انھوں نے ڈی پی او شیخوپورہ، ڈی پی فیروز والا، ایس ایچ او اور لیڈی کانسٹیبل کی معطلی اور ان پر ایف آئی آر کے اندراج کا مطالبہ کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ ’وکلا نہ تو فیروز والا کچہری میں کسی جج کو بیٹھنے دیں گے اور نہ ہی کسی پولیس والے کو کچہری میں داخل ہونے دیں گے۔‘

لیڈی کانسٹیبل کو دھمکیاں ملنے کے الزامات پر احمد مختار نے جواب دیا کہ اگر فائزہ کو کچھ ہوا تو ’اس کی ذمہ دار وہ خود ہوں گی۔‘

’وہ پولیس والوں کی ڈھال کیوں بنیں؟ انھیں یہ نہیں پتہ تھا کہ وکیل کے ساتھ یہ کرنے سے کیا نقصان ہو سکتا ہے؟‘

’میں حق پر ہوں‘

فائزہ نے بی بی سی سے گفتگو میں پولیس میں اپنے سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ انھیں شروع سے پولیس کا یونیفارم پسند ہے اور وہ بچپن سے ہی پولیس فورس کا حصہ بننا چاہتی تھیں۔

’گھر والے کہتے ہیں کہ یہ خطرناک شبعہ ہے، اس لیے والدین نے بھی مخالفت کی جب میں نے پولیس فورس جوائین کی۔ میں پولیس کے محکمے میں اس لیے ہوں تاکہ معاشرے میں خواتین کے ساتھ ہونے والے مسائل اور زیادتیوں کے خلاف لڑ سکوں۔‘

’اب جب میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ہے تو میں اپنے انصاف کے لیے لڑوں گی کیونکہ میں حق پر ہوں۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں