دنیا کے بڑی اقتصادی طاقتیں انسانیت پرمالی فوائد کو ترجیح دے رہی ہیں. عمران خان

بھارت نے جارحیت کی تو اس کے نتائج سوچ سے کہیں زیادہ خطرناک ہوں گے. وزیراعظم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب

وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری کو کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے کچھ غلط کیا تو ہم آخر تک لڑیں گے اور اس کے نتائج سوچ سے کہیں زیادہ خطرناک ہوں گے. اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اگر کچھ غلط ہوا تو آپ اچھے کی امید کریں گے لیکن ہم اس سے نمٹنے کی تیاری کریں گے، اگر دونوں ممالک کے درمیان روایتی جنگ شروع ہوئی اور کچھ ہوا تو سوچیے کہ ایک ملک جو اپنے ہمسایے سے سات گنا چھوٹا ہو تو اس کے پاس کیا موقع ہے، یا تو آپ ہتھیار ڈال دیں یا آخری سانس تک اپنی آزادی کے لیے لڑتے رہیں.

انہوں نے کہا کہ میں یہ سوال خود سے پوچھتا ہوں، میرا ایمان ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں اور ہم لڑیں گے اور جب ایک جوہری ہتھیاروں کا حامل ملک آخر تک لڑتا ہے تو اس کے نتائج سوچ سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں، اس کے نتائج دنیا پر ہوتے ہیں. عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا کہ میں خبردار کررہا ہوں یہ دھمکی نہیں ہے، یہ خوف پریشانی ہے کہ ہم کہاں جارہے ہیں یہی بتانے میں یہاں اقوام متحدہ میں ہوں کیونکہ صرف آپ ہیں جو کشمیر کے عوام کو ان کا حق خود ارادیت کی ضمانت دے سکتے ہیں جس کے لیے وہ مشکلات کا شکار ہیں.انہوں نے کہا کہ یہی موقع ہے کہ ایکشن لینے کا ہے، پہلا ایکشن یہ ہے کہ بھارت کرفیو کو ہٹادے جو 52 روز سے نافذ ہے، یہ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے اور خاص کر ان 13 ہزار نوجوانوں کو جنہیں اٹھایا گیا ہے اور ان کے والدین کو ان کی خبر نہیں ہے. وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عالمی برادری کشمیر کو ہر صورت حق خود ارادیت دے‘انہوں نے کہا کہ 55 روز سے 80 لاکھ افراد 9 لاکھ فوج کی موجودگی میں محصور ہیں اور آرایس ایس کے رکن نریندر مودی کی حکومت ان سے جانوروں جیسا سلوک کر رہی ہے.انہوں نے کہا کہ میں مغربی دنیا سے پوچھتا ہوں کہ اگر 80ہزارجانوروں کو اس طرح سے محصورکردیا جائے کہ انہیں کھانا پانی کچھ بھی نہ ملے تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا ‘کشمیری انسان ہیں اور انہیں 55 دنوں سے 9لاکھ فوج تعینات کرکے محصور رکھا گیا گیا ہے مگر یہ امر افسوسناک ہے کہ دنیا کے امیر ممالک کے لیے ایک ارب کی مارکیٹ اور مالی مفادات انسانیت سے زیادہ اہم ہیں.وزیراعظم عمران خان نے بھارت میں آر ایس ایس کی حکمرانی ہے جو ہٹلر کے نظریے کی حامی ہے اور مودی کی وزارت اعلیٰ کے نیچے گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا مودی اسی آرایس ایس کے تاحیات رکن ہے جس نے مہاتماگاندھی کو قتل کیا‘انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جب کرفیو ہٹالیا جائے گا اور لوگ باہر آئیں گے جہاں 9 لاکھ فوجی تعینات ہیں اس صورت میں خون ریزی کا خطرہ ہے.انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں سینکڑوں سیاسی راہنماﺅں اورہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کرکے بھارت کی دوردارزجیلوں میں رکھا گیا ہے‘ کشمیر میں لوگوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جارہا ہے مگر عالمی ضمیر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے. انہوں نے کہا کہ اس بات کو دوہرانا چاہتا ہوں کہ یہ ایک نازک موقع ہے، اس صورت حال پر ردعمل ہوگا پھر پاکستان پر الزامات عائد کیے جائیں گے، دو جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک آمنے سامنے آئیں گے جس طرح ہم فروری میں ہم آئے تھے‘اس سے پہلے کہ ہم اس طرف جائیں اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے، اسی کے لیے 1945 میں اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تھا، آپ اس کو روکنے کے مجاز ہیں.وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ مجھے خوشی ہے آج ہم یہاں مسائل پر بات کرنے کے لیے جمع ہیں‘ میں سب سے پہلے موسمیاتی تبدیلی سے اپنے خطاب کا آغاز کروں گا. انہوں نے کہا کہ دنیا میں تیزی سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق 5ہزار گلیشیئر پگھل چکے ہیں اور اگر ہم نے اس مسئلے کی طرف ہنگامی بنیادوں پر توجہ نہ دی تو دنیا ایک بڑی تباہی سے دوچار ہو جائے گی.وزیراعظم نے کہا کہ جب ہماری جماعت خیبر پختونخوا میں اقتدار میں آئی تو ہم نے ایک ارب درخخت لگائے لیکن ایک ملک کچھ نہیں کر سکتا اور اقوام متحدہ اور دنیا کے امیر ممالک کو فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے. دوسرا مسئلہ زیادہ اہم ہے اور وہ یہ کہ ہر سال غریب ملکوں سے اربوں ڈالر نکل کر امیر ملکوں کے بینکوں میں پہنچ جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک تباہ ہو رہے ہیں، منی لانڈرنگ اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ پیسے امیر ملکوں سے نکل کر امیر ملکوں میں پہنچ جاتے ہیں.عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل ہمارے قرضے گزشتہ 60سال میں لیے گئے قرضوں کے مقابلے میں 4گنا بڑھ گئے تھے اور ایسے میں ہم 22کروڑ لوگوں کی خدمت کر سکتے ہیں کیونکہ ہمارے ملک میں چند خاندان حکمران تھے جو کرپشن کر کے اپنے پیسے باہر بھیج دیتے تھے. وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امید ہے کہ اس حوالے سے اقوام متحدہ قیادت کرے گی‘اسلاموفوبیا پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اسلاموفوبیا ہے جو نائن الیون کے بعد بڑھا اس حوالے سے عالمی برادری کو سمجھنے کی ضرورت ہے‘ چند ممالک مین حجاب کو ہتھیار سمجھا جاتا ہے یہ اس لیے کیونکہ اسلاموفوبیا ہے.انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا سے تقسیم ہو رہی ہے، خواتین حجاب پہن رہی ہیں لیکن چند ملکوں میں اس پر پابندی ہے اور انہیں اس سے مسئلہ ہے، کچھ ملکوںمیں کپڑے اتارنے کی تو اجازت ہے لیکن پہننے کی نہیں، اس اسلاموفوبیا کا آغاز 9/11 کے بعد ہوا. عمران خان نے کہا کہ دنیا میں کوئی ریڈیکل اسلام نہیں، اسلامی دہشت گردی نام کی کوئی چیز نہیں، صرف ایک اسلام ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے، دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا‘وزیراعظم نے کہا کہ چند مغربی ممالک کے رہنما اس حوالے سے متضاد باتیں کرتے ہیں جس سے غلط فہمیاں بڑھ جاتی ہیں حالانکہ اسلام صرف ایک ہے اس میں کوئی درجے نہیں ہیں.انہوں نے بدقسمتی سے اسلامو فوبیا عالمی راہنماﺅں کے متصبانہ اور غیرذمہ رانہ بیانات کی وجہ سے پھیل رہا اور اس کی وجہ سے مسلمانوں میں مایوسی ہے اور دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا جاتا ہے. عمران خان نے کہا کہ نائن الیون کے بعد چند وجوہات کے باعث دہشت گردی کو مسلمانوں سے جوڑا گیا حالانکہ نائن الیون سے قبل اکثر خود کش حملوں کا تعلق تامل ٹائیگرز کرتے تھے لیکن کسی نے اس کو ہندووں سے نہیں جوڑا‘انہوں نے کہا کہ 9/11 حملوں کے بعد یہ سمجھ لیا گیا کہ خودکش بمبار مسلمان ہوتے ہیں لیکن دنیا میں کسی نے بھی یہ تحقیق نہیں کی کہ خود کش حملے سری لنکا میں تامل نے کیے جن کا مذہب ہندو تھا لیکن اس کے لیے ہندو مذہب کو بنیاد قرار نہیں دیا جا سکتا اور اسی اسی طرح جنگ عظیم میں جاپان کے طیاروں نے خودکش حملے کیے.انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے کیریئر کے دوران انگلینڈ میں وقت گزارا ہے اور مغربی ممالک ان معاملات کو نہیں سمجھتے، مغرب میں مذہب کو بالکل الگ نظر سے دیکھا جاتا ہے اور انہیں نہیں معلوم کہ ہمارے لیے مذہب کیا حیثیت رکھتا ہے لہٰذا جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی گئی تو اس کا ردعمل سامنے آیا اور اس کے نتیجے میں یہ تصور کر لیا گیا کہ اسلام عدم برداشت پر مبنی مذہب ہے.عمران خان نے کہا کہ دنیا میں پہلی فلاحی ریاست کی بنیاد مدینہ میں دالی گئی جس میں کمزوروں کے حقوق خیال رکھا گیا اور امیروں پر ٹیکس عائد کر کے غریبوں کو سہولیات فراہم کی گئیں، اس مذہب میں سب برابر ہیں اور غلاموں نے بادشاہت کی‘انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آزادی اظہار کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تضحیک اور توہین کے لیے استعمال نہ کیا جائےے کیونکہ اس سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے.کشمیر پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ معاملہ بہت سنجیدہ ہے اور یہ میرا اہم مقصد ہے لیکن پہلے میں واضح کرنا چاہتاہوں کہ میں جنگ کے خلاف ہوں.انہوں نے کہاکہ پاکستان اور فوج نے مجاہدین کی مدد کی جس کی معاونت امریکا اور مغربی ممالک نے کی ان مجاہدین کو روس نے دہشت گرد کہا لیکن ہمارے لیے وہ فریڈم فائٹر تھے اور جب امریکا افغانستان میں آیا تو ہم اس کے اتحادی تھے‘انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں ہمارے 70 ہزار افراد جاں بحق ہوئے اور معاشی حوالے سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوا. بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ باہمی مسائل پر بات کرنے کے لیے تیار تھے اور میں نے وزیراعظم نریندر مودی سے بھی کہا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا‘ پاکستان میں کوئی شدت پسند تنظیم نہیں لیکن بھارت ہم پر الزام لگا رہا ہے، ہم نے حکومت میں آنے کے بعد ان گروپس کے خلاف کارروائی کی اور اب وہاں اس طرح کے کوئی گروپس نہیں اور اس بات کو ثابت کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کو دعوت دی تھی، یہ دہشت گرد گروپس کسی کے حق میں نہیں کیونکہ اس سے ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ اور کوششوں کو نقصان پہنچے گا.عمران خان نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پاکستان سے ان پر حملے ہو رہے ہیں لیکن میں نے کہا کہ آپ کی سرزمین سے ہمارے بلوچستان میں حملے کیے جا رہے ہیں جس کا ثبوت بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کی گرفتاری ہے . بھارت الزام تراشیاں کرتا رہتا ہے ہم نے اقوام متحدہ کے مبصرین کو دعوت دی کہ وہ جہاں چاہیں دورہ کریں اور دیکھیں کہ پاکستان میں کہاں جہادیوں کے ٹھکانے ہیں.میں نے اقتدار میں آنے کے بعد افغان صدر کودعوت دی اور وزیراعظم مودی سے بھی بات کی کہ ہم اختلافات کو پس پشت ڈال کر خطے کے عوام کے لیے بات کرتے ہیں کیونکہ برصغیرمیں کروڑوں لوگ غربت کی چکی میں پس رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارتی جاسوس پکڑا جس نے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت دیئے ہم نے دنیا کے سامنے سب کچھ کھول کررکھ دیا ‘مگر جب پلوامہ میں کشمیر ی نوجوان نے بھارتی فوج کے قافلے پر خودکش حملہ کیا تو بھارت نے کسی ثبوت کے بغیر پاکستان پر الزام لگا دیا جس کے جواب میں ہم نے کہا کہ ہمیں ثبوت مہیا کریں کہ پاکستان اس میں ملوث ہے ہم ذمہ دار لوگوں کے خلاف کاروائی کریں گے مگر بھارت کی جانب سے ثبوت مہیا کرنے کی بجائے جارحیت کی گئی جس کا جواب پاکستان نے دیا اور اسی کاروائی کے دوران ایک بھارتی پائلٹ ہم نے گرفتار کرلیا پاکستان نے ایک بار پھر اچھے ہمسائے ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے گرفتار ہونے والے بھارتی پائلٹ کو واپس کردیا اور پغام دیا کہ ہم امن چاہتے ہیں.لیکن بھارت میں ہماری امن کی خواہش کو غلط رنگ دیا مودی کی پوری انتخابی مہم پاکستان کے خلاف تھی ہم نے سوچا کہ الیکشن ہیں لیڈرزایسے سیاسی بیانات دیتے رہتے ہیں مگر ہم اس وقت چونکے جب ہمیں پتہ چلا کہ ایف آئی ٹی ایف اے میں بھارت نے پاکستان کو بلیک لسٹ کروانے کی کوشش کی یہ مودی کی پاکستان دشمنی کو ثبوت تھا. انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں اور شملہ معاہدے اور بھارتی آئین کی خلاف ورزی کر کے اس کی آئینی حیثیت کو تبدیل کیا گیا تو اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کو مجبور کرئے کشمیریوں کو ان کے حقوق دینے پر .انہوں نے کہا کرفیو اٹھنے کے بعد کیا ہوگا ؟ہمیں خدشہ ہے کہ کرفیوکے ہٹنے کے بعد بڑا خون خرابہ ہوگا کیونکہ کشمیری اس کو قبول نہیں کریں کریں گے لاکھوں کشمیروں نے جانیں دی ہیں کشمیر کی آزادی کے لیے ‘9لاکھ فوجی کشمیر میں لگا رکھے ہیں کسی نے سوچا ہے کہ کشمیر کے لوگوں پر کیا بیت رہی ہے ان کے ساتھ جانوروں سے بدترسلوک کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کے ردعمل کا الزام بھی پاکستان پر ڈالنے کی تیاریاں کررہا ہے .بھارتی وزیردفاع کہتا ہے کہ پاکستان نے پانچ سو مجاہدین تیار کررکھے ہیںکیونکہ وہ اپنی کمزوریوںکا الزام پلوامہ کی طرح پاکستان کو دینا چاہتے ہیں کیا ہمیں نہیں معلوم کہ 9لاکھ فوجیوں کے مقابلے میں پانچ سو لوگ کیا کرلیں گے. انہوں نے کہا کہ کوئی اس پر نہیں سوچ رہا کہ کشمیریوں کی طرف سے کس قدرشدید ردعمل سامنے آئے گا‘انہوں نے کہا کہ مجھے یا یہاں موجود کسی بھی فرد کو55دن تک کشمیریوں کی طرح محصور رکھا جائے تو وہ ہتھیار نہیں اٹھائے گا تو اور کیا کرئے ان مظالم کے خلاف جو بھارتی افواج کررہی ہیں.انہوں نے کہا کہ ہالی وڈکی فلموں میں ہیرو انصاف نہ ملنے پر بندوق اٹھالیتا ہے اور بندوق کے زور پر سب کو زیر کرتا ہے تو نیویارک کے پورے سینما میں تالیاں بجتی ہیں‘اگر کشمیری کے نوجوان ہتھیار اٹھائیں گے تو انصاف کے حصول کے لیے تو انہیں دہشت گرد کہا جائے گا کیونکہ وہ مظلوم مسلمان ہیں اس رویہ کو اب تبدیل ہونا چاہیے.آپ مجبور کررہے ہیں لوگوں کو کہ وہ سخت ردعمل دیں اور خون خرابے کا جواب خون خرابے سے دیں ‘ دنیا کے بڑی اقتصادی طاقتیں صرف ایک ارب کی مارکیٹ اور اپنے مالی فوائد کو دیکھ رہی ہیں ہم اپنے سے سات گنا بڑے ملک کے ساتھ جنگ کی صورت میں نتائج کیا ہونگے ہم سرنڈرکردیں یا آخری دم تک لڑیں ہم مسلمان ہیں آحری سانس پر لڑیں گے میں دھمکی نہیں دے رہا اپنے خدشات کا اظہار کررہا ہوں اقوام متحدہ کرفیو اٹھائے فوری اور تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں