کرکٹ بورڈ سے این او سی لینا پلیئرز کیلئے کڑا امتحان بن گیا

کرکٹ بورڈ سے این او سی لینا پلیئرز کیلئے کڑا امتحان بن گیا

وزیر اعظم کے قریبی دوست ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ ذاکر خان کے رویے سے نالاں ایک کھلاڑی ایم ڈی سے شکایت پرزیرعتاب

پی سی بی سے این او سی لینا پلیئرزکیلئے کڑا امتحان بن گیا جبکہ ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ کے رویے سے نالاں ایک کھلاڑی نے ایم ڈی سے شکایت کی تو زیرعتاب آ گیا،ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ دنوں ایک نوجوان ٹیسٹ کرکٹر نے بورڈ سے رابطہ کر کے انگلش کاﺅنٹی کی جانب سے چار روزہ میچز اور کیریبیئن پریمیئر لیگ بھی کھیلنے کی اجازت طلب کی، ان کا ابتدائی معاہدہ ٹی ٹونٹی بلاسٹ کیلئے تھا،کئی روز گزرنے کے باوجود جواب نہ ملا تو انھوں نے براہ راست ایم ڈی/ سی ای اوپی سی بی وسیم خان سے واٹس ایپ پر رابطہ کیا جنھوں نے مسئلہ حل کرانےکی یقین دہانی کرا دی، مذکورہ کھلاڑی کو علم نہیں تھا کہ یہ بات ان کیلئے بڑا مسئلہ بن جائےگی کیونکہ اسکے بعد انھیں ذاکر خان کے غصے کا سامنا کرنا پڑا، ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ اس پر ناخوش تھے کہ انھوں نے کیوں براہ راست وسیم خان سے رابطہ کیا، یہ معاملہ اب تک حل نہیں ہو سکا ہے۔

بعض دیگر نوجوان کرکٹرز بھی اسی قسم کے مسائل کا شکار ہوئے۔غیرملکی لیگز میں شرکت سے قبل کھلاڑیوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بورڈز سے این او سیحاصل کریں، البتہ پاکستانی کرکٹرز کیلئے اب یہ آسان کام مشکل بن چکا ہے کیوں کہ انھیں یا تو تاخیر سے اجازت ملتی یا انکار کردیا جاتا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہسری لنکا سے سیریز کا شیڈول تبدیل ہونے کی وجہ سے بھی کئی کرکٹرز سی پی ایل میں حصہ نہیں لے سکیں گے، ابتدائی پروگرام کے مطابق پہلے ٹیسٹ اور دسمبر میں محدود اوورزکے میچز ہونے تھے جس کے بعد وائٹ بال سے کھیلنے والوں کو ویسٹ انڈیز جانےکا موقع مل جاتا، مگر اب ستمبر اکتوبر میں ون ڈے اور ٹی ٹونٹی ہوں گے،اس لیے صرف وہی کرکٹرز کیریبیئن لیگ کھیل سکیں گے جنھیں قومی ٹیم میں جگہ ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔واضح رہے کہ ایونٹ کا آغاز 4ستمبر کو ہوگا۔دوسری جانب رابطے پر پی سی بی کے میڈیا منیجر نے کہا کہ کسی کھلاڑی کا این او سی نہیں روکا گیا، کیریبیئن لیگ کیلئے بھی شعیب ملک، حفیظ اور شاداب خان سمیت 5 کرکٹرز کو اجازت نامے جاری کر دیے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں